نئی دہلی،22اگست(ایس او نیوز/آئی ا ین ایس انڈیا)ایک ساتھ تین طلاق کے خلاف مرکزی حکومت نے نیاقانون نہ بنانے کا اشارہ دیاہے۔منگل کو تین طلاق پر فیصلے سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے اسے غیر آئینی قرار دیا تھا اور حکومت کو اسے لے کر 6ماہ کے اندر اندر ایک قانون بنانے کا حکم دیا تھا۔حکومت نے نیا قانون نہ بنانے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے لئے گھریلو تشدد سے نمٹنے والے موجودہ قانون ہی کافی ہیں۔
تین طلاق پر نیا قانون بنانے کو لے کر صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا کہ حکومت اس مسئلے پر منظم طریقے سے غور کرے گی۔یہ پوچھے جانے پر کہ ایک ساتھ تین طلاق کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ کس طرح سے لاگو ہوگا اور کیا اس فیصلے کو نافذ کرانے کے لئے کسی نئے نظام کی ضرورت ہے؟ وزیر نے کہا کہ اگر کوئی شوہر ایک ساتھ تین طلاق دیتا ہے تو شادی ختم نہیں کیا جائے گا۔
روی شنکر پرساد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دیتا ہے تو اسے درست نہیں مانا جائے گا،شادی کے بارے میں ان کی ذمہ داریاں باقی رہیں گی،اس کے علاوہ، بیوی بھی اس کی پولیس میں شکایت کرنے اور گھریلو تشدد کے تحت شکایت درج کرنے کے لئے آزاد ہو گی۔سپریم کورٹ کے 5رکنی آئینی بنچ میں چیف جسٹس جے ایس کھیہر اور جسٹس عبدالنذیر ایک ساتھ تین طلاق کے عمل پر 6ماہ کااسٹے لگانے اور حکومت کو اس بارے میں قانون بنانے کا حکم دینے کے حق میں تھے،اگرچہ تین دیگر ججز، کرین جوژف، آرایف نریمن اور یویوللت نے ایک ساتھ تین طلاق کو آئین کی خلاف ورزی قراردیاہے۔